مدرسہ قاسمیہ بینی آباد کا سرکاری نشان
HISTORICAL ARCHIVE & GOVERNANCE • قیام و انتظامی تاریخ

تاریخ، بانی اور آئینۂ مدرسہ

علم و عمل کے چراغ کی روشن داستان، باگمتی ندی کے کنارے ۳۲ سالہ لازوال خدمات اور آئندہ نسلوں کی ایمانی حفاظت کا عہد

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابتدائیہ

✦

علم کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے، اسی کی بنا پر انسان کے سر پر شرافت و کرامت اور عزت و رفعت کا تاج رکھا گیا، اس کی نشر و اشاعت اور فروغ میں مدارس اسلامیہ کا بنیادی اور اہم رول رہا ہے، یہ دینِ مبین کی حفاظت کے قلعے ہیں، یہ علم و انسانیت کی درسگاہیں اور اخلاق و آدمیت کی تربیت گاہیں ہیں، جہاں انسان تیار ہوتے ہیں، ایثار و ہمدردی کے پیکر ڈھلتے ہیں، محب وطن اور خیر خواہ شہری تیار ہوتے ہیں۔

انہیں مدارس دینیہ میں ایک اہم نام مدرسہ قاسمیہ بینی آباد کا بھی ہے، جو آج سے ۳۲ برس قبل بینی آباد کی تاریک فضا میں علم و عمل کا دیپ جلانے کے لیے شمالی بہار کے مشہور و بافیض عالم دین، داعی الی اللہ حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی رحمة الله علیہ کے ہاتھوں قائم ہوا۔

جو بحمد اللہ بہت ہی قلیل مدت میں ترقی کے عروج کو پہنچا اور جس نے پورے قرب و جوار میں تعلیم کی پختگی، حسن تربیت، صحت مخارج کے ساتھ تلاوت قرآن کے اہتمام، حفظ قرآن اور نورانی قاعدہ کی باقاعدہ تعلیم سے اپنی ایک منفرد اور الگ شناخت قائم کرلی۔ اس کم عرصے میں تقریباً ۲۰۰ حفاظ پیدا ہوئے جو ملک کے مختلف خطوں میں دعوت و دین کے کاموں میں مصروف ہیں۔ اللہ پاک ادارے کو مزید ترقیاں بخشے۔ آمین!

نظام الدین اسامہ ندوی ناظم مدرسہ قاسمیہ بینی آباد، مظفر پور
شعبہ اشاعت مدرسہ قاسمیہ
HISTORICAL GENESIS • قیام کا پس منظر

قیام کا پس منظر اور بانی محترم کے احساسات

✦

بانی مدرسہ حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی رحمة الله علیہ کے قلم سے:

”اس دورِ پرفتن میں آپ جدھر بھی نظر دوڑائیں سماج و معاشرے میں فساد و بگاڑ نظر آتا ہے، دینی تعلیم سے بے رغبتی بڑھتی جا رہی ہے، دعوت الی اللہ کے فریضہ منصبی کو لوگ بھول چکے ہیں، اس احساس کے پیش نظر یہ ناچیز چند سالوں سے حیران و پریشان تھا اور ایک آزاد ادارہ قائم کرنا چاہتا تھا جس کے زیر نگرانی دعوت الی اللہ، تعلیم دین اور اصلاح معاشرہ کا کام انجام پذیر ہو... الحمد للہ آج اس کوشش و سعی کا ثمرہ ہے کہ بینی آباد میں درجنوں حفاظ اور عالم دین پیدا ہو چکے ہیں۔“

جغرافیائی و تاریخی پس منظر (1946ء کے فسادات اور باگمتی ندی کا کنارہ)

یہ بستی مظفر پور سے ۴۰ کلو میٹر پورب کی جانب باگمتی ندی کے کنارے واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی بستی ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد قلیل ہے۔ مزید یہ کہ اس بستی کے ہر چہار جانب غیر مسلموں کی کثیر آبادی ہے۔ یہاں تک کہ پورے بہار میں پہلی مرتبہ قومی فتنہ (کمیونل رائٹ) ۱۹۴۶ء میں اسی سرزمین بینی آباد میں ہی ہوا جس میں کثیر تعداد میں مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان ہوا۔

ہونہار اور معصوم بچے قبل از تعلیم دین کے کارخانوں اور ہوٹلوں کی نذر ہو جاتے تھے۔ ان کو سنوارنے اور قوم کے نونہالوں کو اس عظیم خسارے سے بچانے کے لیے اس سرزمین پر ایک مضبوط دینی درسگاہ کا قیام ناگزیر تھا۔

مدرسہ کی قدیم اور سفالہ پوش عمارت
مدرسہ کی قدیم اور سفالہ پوش تاریخی عمارت بڑا منظر دیکھیں 🔍
کیمپس کا وسیع منظر
موجودہ کیمپس کا کشادہ صحن اور طلبہ بڑا منظر دیکھیں 🔍

تاریخ تاسیس و مبارک آغاز

اطراف و اکناف کے مستند و موقر علماء کرام و مصلحاء عظام بالخصوص استاد گرامی حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب قاسمی (شیخ الحدیث جامع العلوم مظفر پور و خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ) کے مشورے کے بعد:

16 محرم الحرام 1413ھ مطابق 18 جولائی 1992ء، بروز شنبہ (ہفتہ)
GOVERNANCE & LINEAGE • آئینہ مدرسہ

انتظامی تسلسل، اساتذہ اور اربابِ حل و عقد

✦

مدرسہ کے قیام سے لے کر تاحال مخلص قیادت، اساتذہ کرام اور سرپرستوں کی سنہری تاریخ

مدرسہ قاسمیہ کے اساتذہ کرام

مدرسہ قاسمیہ کے ۱۴ مخلص اساتذہ کرام و ملازمین کی جماعت

Dedicated Faculty Members and Tarbiyah Mentors

بڑا کر کے دیکھیں 🔍
CHIEF PATRON • سرپرست اعلیٰ

حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی دامت برکاتہم

نائب ناظم امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ (پٹنہ)

صدورِ محترم (Presidents)

صدرِ اول (First President)
جناب نصر الاسلام صاحب (راجا بابو)
مدتِ صدارت: از قیام مدرسہ (1992ء) تا وفات 3 جنوری 2019ء
صدرِ ثانی (Second President)
حضرت مولانا عبد الحسیب صاحب قاسمی
مدتِ صدارت: 19 دسمبر 2022ء تا وفات 4 جون 2023ء

نظماءِ محترم (General Secretaries)

بانی و ناظمِ اول
حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی رحمة الله علیہ
مدت: از قیامِ ادارہ تا وفات 21 جون 2008ء
ناظمِ ثانی
حضرت مولانا ابو القمر صاحب ثاقبی
مدت: 22 جون 2008ء تا 21 ستمبر 2017ء
ناظمِ ثالث
حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب مظاہری
مدت: 22 ستمبر 2017ء تا 13 جنوری 2019ء
ناظمِ رابع (موجودہ)
مولانا محمد نظام الدین اسامہ صاحب ندوی
ابن حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب رحمة الله علیہ
مدت: 13 جنوری 2019ء تا حال
FUTURE ROADMAP • مستقبل کے عزائم

مستقبل کے ۱۰ اہم ترین عزائم و منصوبہ جات

✦

ادارے کو مزید فعال اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے طے شدہ ۱۰ اہم عزائم جن کی تکمیل کے لیے مخلصین کی دعائیں اور تعاون درکار ہے:

۱
(1) مدرسہ کو ایک مرکزی ادارہ کی شکل دینا۔
Developing the madrasa into a central regional institution for Islamic scholarship in North Bihar.
۲
(2) مغربی جانب زیر تعمیر عمارت کی تکمیل۔
Completing the western multi-story academic building currently under active construction.
۳
(3) عربی درجات کا قیام اور حفظ کی ترتیب میں اضافہ۔
Establishing higher Arabic (Dars-e-Nizami) classes and expanding Hifz facilities.
۴
(4) دعوت سینٹر کا قیام۔
Establishing a specialized regional Dawah & Islamic Guidance Center.
۵
(5) بچیوں کی تعلیم کے لئے مدرسۃ البنات کا قیام۔
Founding a dedicated Girls' Islamic Academy (Madrasat-ul-Banat) for comprehensive moral tarbiyah.
۶
(6) شعبہ خطاطی و سلائی کڑھائی کا آغاز۔
Launching Islamic Calligraphy, Tailoring, and Embroidery vocational skill programs.
۷
(7) شعبہ قرأت کا آغاز۔
Inaugurating the Department of Advanced Qirat and Sab'ah/Asharah recitations.
۸
(8) کمپیوٹر سینٹر کا قیام۔
Setting up a modern Computer Training Lab to empower students with digital literacy.
۹
(9) الہدیٰ لائبریری کی تعمیر۔
Constructing and stocking the spacious "Al-Huda Library" with classical and research references.
۱۰
(10) ماہانہ خواتین کا دینی و تربیتی اجتماع۔
Organizing regular monthly moral, spiritual, and Islamic orientation conferences for women.
ان عزائم کی تکمیل میں دستِ تعاون بڑھائیں